پاکستان رائٹرز گلڈ، سندھ میں آپ کیسے شامل ہو سکتے ہیں؟

کیا آپ جاننا چاہتے ہیں؟

پاکستان رائٹرز گلڈ سندھ کی ممبر شپ کا طریقہ کار

پاکستان رائٹرز گلڈ سندھ کی ممبر کیسے حاصل کی جائے؟

ادارہ مصنفین پاکستان ، سندھ کی ممبر شپ حاصل کرنے کا طریقہ کار؟

پاکستان رائٹرز گلڈ سندھ، ادیبوں، شاعروں، نثر نگاروں اور تخلیق کاروں کا ایک قومی ادارہ ہے، جس کا مقصد ادبی سرگرمیوں کا فروغ اور اہلِ قلم کے حقوق کا تحفظ ہے۔
اگر آپ ادب و تخلیق سے وابستہ ہیں اور اپنی شناخت پاکستان کے معتبر ترین ادبی ادارے کے ساتھ جوڑنا چاہتے ہیں تو آپ گلڈ کی ممبرشپ حاصل کر سکتے ہیں۔

ممبرشپ کی اقسام

قسمتفصیل
ریگولر ممبروہ مصنف یا شاعر جن کی کم از کم ایک کتاب یا مجموعہ شائع ہو چکا ہو۔
ایسوسی ایٹ ممبروہ نئے ادیب یا شاعر جو اشاعت کے ابتدائی مرحلے میں ہیں یا کسی معتبر جریدے میں تخلیقات شائع کر چکے ہیں۔
لائف ممبروہ افراد جو گلڈ کے تاحیات رکن بننا چاہیں (خاص فیس کے ساتھ)۔
آنریری ممبروہ شخصیات جنہوں نے قومی سطح پر ادب یا ثقافت کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دی ہوں۔

اہلیت

ایسوسی ایٹ ممبر کے لیے کم از کم دو ادبی کام (نثر، نظم، افسانہ یا مضمون) قابلِ ذکر جریدے میں شائع شدہ ہوں۔

پاکستانی شہری ہونا ضروری ہے۔

اردو یا کسی علاقائی زبان میں ادبی تخلیق کا ریکارڈ موجود ہو۔

اشاعت یا نمایاں ادبی خدمات کی مصدقہ تفصیل فراہم کرنا ہوگی۔

درکار دستاویزات

مکمل درخواست فارم (اس ویب سائیٹ کے مینیو سے ڈائون لوڈ کر سکتے ہیں یا دفتر سے حاصل کریں)

شناختی کارڈ کی نقل

ادبی خدمات کا ثبوت (کتاب، اشاعت، یا لنک)

ایک عدد پاسپورٹ سائز تازہ تصاویر

(سالانہ فیس مبلغ 100روپے صرف، (برائے ریگولر ممبرشپ)کی رسید ( اگرآن لائن جمع کرائی ہے تو اس کا ثبوت

گلڈ کے شناختی کارٹ کی فیس مبلغ 150روپے صرف۔

درخواست دینے کا طریقہ

آپ دو طریقوں سے ممبرشپ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں:

الف) آن لائن فارم کے ذریعے

ویب سائیٹ کے مینیو میں دیا گیا فارم پُر کرکے مطلوبہ دستاویزات کے ساتھ بذریعہ واٹس ایپ بھی ارسال کر سکتے ہیں

آن لائن صرف ویب سائیٹ پر دیئے گئے اکائونٹ نمبر پرادائیگی کریں (گلڈ کسی بھی دوسرے اکائونٹ میں بھیجی گئی رقم کی ذمہ داری نہیں لیتا، آن لائن فراڈ سے خود کو محفوظ رکھیں اور ویب سائیٹ کے ساتھ منسلک واٹس ایپ نمبر سے آپ آن لائن اکائونٹ کی تفصیلات کنفرم بھی کر سکتے ہیں)

تصدیق کے بعد ای میل اور واٹس ایپ کے ذریعے اطلاع دی جائے گی

ب) آف لائن (ڈاک کے ذریعے)

فارم ڈاؤن لوڈ کریں

تمام دستاویزات منسلک کر کے درج ذیل پتے پر بھیجیں

کیمپ آفس پاکستان رائٹرز گلڈ، سندھ ۔ نمبر 605، صائمہ پاری سینٹر، چھٹی منزل، ملحق ڈولمن شاپنگ مال، بلاک سی، نارتھ ناظم آباد، کراچی

+92-333-2303059فون نمبر

pakistanwritersguild@gmail.comای میل ایڈریس

info@pakistanwritersguild.com

منظوری کا عمل

درخواست موصول ہونے کے بعد ممبرشپ کمیٹی جائزہ لے گی۔

منظوری یا مزید معلومات کے لیے درخواست دہندہ سے ای-میل یا فون کے ذریعے رابطہ کیا جائے گا۔

منظور شدہ امیدوار کو رکنیت کارڈ جاری کیا جائے گا۔


پاکستان رائٹرز گلڈ کی رکنیت کا طریقہ کار


۔ ادارے کے دستور کی دیگر متعلقہ واقعات کے تحت گلڈ کی رکنیت کے دروازے پاکستان کی کی مروجہ زبان میں لکھنے والے ہر ادیب کے لیے کھلے ہیں بشرط کہ
۔ رکنیت کا امیدوار پاکستانیااسٹیزن ایکٹ کی رو سے پاکستانی شہری ہو۔
۔ وہ گلڈ کے اغراض و مقاصد سے متفق ہو
۔ پاکستانی شہری جو بیرون ملک میں رہتا ہو، گلڈ کا رکن بن سکتا ہے، بشرط کہ وہ دستور کی شک الف پر پورا اترتا ہو لیکن وہ رائے دینے کا مجاز نہ ہوگا اور نہ ہی وو گلڈ کی کسی کمیٹی کا انتخاب لڑ سکتا ہے۔ البتہ وطن واپس آجانے پر اپنے سکونتی صوبے کی گلڈ کا با قاعد ہ ر کن شمار ہوگا۔
۔ رکنیت کا واحد زمرہ عام رکن کا ہوگا یعنی درج رجسٹر ڈ ہونے والا ہر رکن عام /سادہ رکن کہلا ئے۔
۔ گلڈ کے ہر رکن کو کسی ایک صوبے کے رکن کے طور پر رجسٹر کیا جائے گا اور کوئی شخص ایک وقت ایک سے زیادہ صوبوں کا رکن نہ ہو سکے گا۔
۔ اگر کوئی رکن اپنی سکونت تبدیل کرنے کے باعث اپنی رکنیت ایک صوبے سے اپنی دوسرے صوبے میں منتقل کرنا چاہتا ہے تو دو اپنے متعلقہ صوبے کے سیکرٹری کو اس کی اطلاع دے گا۔ وہ سیکرٹری یہ اطلاع اس صوبے کے سیکرٹری کو بھیجے گا جہاں منتقل ہونے کی اطلاع رکن نے دی ہے۔ موخر الذ کر سیکرٹری اس نئے صوبے میں شامل کرنے کا پابند ہوگا۔
۔ کسی ایک صوبے کارکن اگر کسی دوسرے صوبے کے اجلاس میں شریک ہوتا ہے تو وہ اس صوبے کی رکنیت کے تمام حقوق سے ماسوائے ووٹ ڈالنے یا عام ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے مستفید ہو گا۔
۔ رکنیت کی ہر درخواست مجوز ہ فارم پر دی جائے گی جس پر گلڈ کے ارکان میں سے ایک بطور مجوز اور ایک بطور موید اپنے دستخط ثبت کرے گا ۔ اس درخواست کے ہمراہ ایک سال کا چندہ اور فیس داخلہ جمع کی جائے گی۔
۔ رکنیت کا اندراج اس وقت تک مکمل نہیں سمجھا جائے گا جب تک اس کی توثیق صوبائی مجلس عاملہ نہ کر دے اور عاملہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ تین ماہ کے اندر اس درخواست پر اپنافیصلہ درج کرے گا۔