
پاکستان رائٹرز گلڈ
تعارف
پاکستان رائٹرز گلڈ کا قیام جنوری 1959ء میں کراچی میں عمل میں آیا۔ اس ادارے کا مقصد پاکستان کے ادبی، ثقافتی اور فکری نظریات کو فروغ دینا اور ملک کے دونوں حصوں ,مشرقی اور مغربی پاکستان کے اہلِ قلم کے درمیان تخلیقی ربط پیدا کرنا تھا۔ گلڈ نے قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں میں ادبی اتحاد اور فکری ترقی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔
قیام اور قیادت
پاکستان رائٹرز گلڈ بابائے اُردو مولوی عبدالحق کی سرکردگی میں قائم کی گئی۔ اس کے قیام کی تحریک کئی ممتاز اردو ادیبوں نے پیش کی، جن میں سرِفہرست قدرت اللہ شہاب تھے، جو اس وقت سیکریٹری تعلی پاکستان کے عہدے پر فائز تھے اور جنہوں نے تنظیم کے خاکے اور ڈھانچے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ابتدائی اجلاس میں شاہد احمد دہلوی کو ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین اور پروفیسر محمد انعام الحق (ڈائریکٹر بنگلہ اکیڈمی) کو اس وقت مشرقی پاکستان کے رابطہ کار کے طور پر منتخب کیا گیا۔ گلڈ کے افتتاحی اجلاس میں تقریباً ۲۵۰ ادیبوں نے شرکت کی۔ قدرت اللہ شہاب کو تنظیم کا پہلا سیکریٹری جنرل منتخب کیا گیا۔
بعد ازاں کراچی، لاہور اور ڈھاکا میں ۱۳ رکنی علاقائی کمیٹیاں قائم کی گئیں تاکہ مقامی سطح پر ادبی سرگرمیوں کو منظم کیا جا سکے اور علاقائی نمائندگی کو فروغ دیا جا سکے۔
ابتدائی سرگرمیاں اور بین الاقوامی شناخت
قیام کے پہلے سال ہی گلڈ نے انجینئرز انسٹی ٹیوشن، ڈھاکا میں ایک اہم سمینار منعقد کیا، جس کا موضوع تھا: میر مشرف حسین کی ادبی خدمات۔ دوسرا سمینار ۷ اپریل ۱۹۶۱ء کو ڈاکٹر محمد شاہداللہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اسی سال ۲۱ جون ۱۹۶۱ء کو اقوامِ متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے (یونیسکو) نے پاکستان رائٹرز گلڈ کو غیر سرکاری تنظیم کے طور پر تسلیم کر لیا۔ بعد ازاں، گلڈ کا ایک چھ رکنی وفد جس میں مشرقی اور مغربی پاکستان کے تین تین نمائندے شامل تھے, شاعرغلام مصطفیٰ کی قیادت میں نومبر تا دسمبر ۱۹۶۱ء میں کولمبو (سری لنکا) میں منعقدہ یونیسکو کانفرنس میں شریک ہوا۔ گلڈ نے ۱۴ جنوری ۱۹۶۱ء کو ڈھاکا میں ایک اور سمینار کا اہتمام کیا، جب کہ ۲۹ جنوری ۱۹۶۲ء کو مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کا پانچواں اجلاس بھی ڈھاکا ہی میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں کاپی رائٹ کے حوالے سے چھ نکاتی سفارشات منظور کی گئیں۔
مارچ ۱۹۷۰ء میں کراچی میں ہونے والے اجلاس میں محمود جمال زاہد کو گلڈ کا سیکریٹری جنرل متفقہ طور پر منتخب کیا گیا۔
اراکین اور ادبی اثرات
پاکستان رائٹرز گلڈ سے اُس وقت کے نمایاں، ترقی پسند اور غیر جانبدار ادیبوں، صحافیوں اور دانشوروں کی ایک بڑی تعداد وابستہ تھی۔ یہ تنظیم ملک میں ادبی آزادی، فکری مکالمے اور ثقافتی ترقی کی ایک مضبوط آواز بن کر ابھری۔ گلڈ نے اردو کے ساتھ ساتھ علاقائی زبانوں کے ادب کو بھی فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
اعزازات اور انعامات
ادب میں اعلیٰ کارکردگی کے اعتراف کے طور پر گلڈ نے کئی اہم ادبی ایوارڈز جاری کیے، جن میں شامل ہیں
آدم جی ادبی انعام
داؤد پرائز (۱۹۶۳ء)
نیشنل بینک پرائز (۱۹۶۸ء)
صدرِ پاکستان کا تمغۂ امتیاز برائے ادب (Pride of Performance)
یہ ایوارڈز ملک کے ممتاز ادیبوں اور شاعروں کی خدمات کے اعتراف کے طور پر پیش کیے جاتے تھے۔
ورثہ اور اہمیت
پاکستان رائٹرز گلڈ، پاکستان کی ادبی تاریخ کا ایک سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ اس ادارے نے نہ صرف ادیبوں کو ایک منظم پلیٹ فارم فراہم کیا بلکہ ادبی قدروں، فکری آزادی، اور قومی ثقافت کے
فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ گلڈ کی روایات نے پاکستان میں بعد ازاں قائم ہونے والے کئی ادبی اور ثقافتی اداروں پر گہرا اثر ڈالا۔
